نِیپیداو 19/ستمبر (ایجنسی) روہنگیا مسلمانوں پر فوجی مظالم اور نسل کشی کیلئے عالمی سطح پر سخت تنقید کی شکار میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی نے آج دیدہ دلیری کے ساتھ کہاکہ روہنگیا بحران پر عالمی تحقیقات و تنقیح سے وہ خوفزدہ نہیں ہیں تاہم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہیرے میں کھڑا کرنے کا عہد کیا لیکن اُس ہولناک تشدد کے لئے فوج کو ذمہ دار یا مورد الزام ٹھہرانے سے انکار کردیا جس (تشدد) کے نتیجہ میں 4,21,000 سے زائد بے یار و مددگار روہنگیائی مسلمانوں کو اپنی جانیں بچانے کے لئے فرار ہوتے ہوئے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران ان مظالم پر عالمی برادری کی جانب سے اپنے ملک کی امکانی سرزنش سے قبل ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت آنگ سان سوچی نے آج سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا۔ سوچی نے اپنے ملک کے عوام کے بجائے بین الاقوامی ناظرین پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انگریزی زبان میں طویل خطاب کیا جس میں اُنھوں نے مخدوش جمہوریت (مائنمار) میں پیدا شدہ اس بحران کو حل کرنے کیلئے صبر و تحمل اور سوجھ بوجھ کی ضرورت پر زور دیا۔ سوچی نے اگرچہ پناہ گزینوں کو واپس لانے اور ان کی بازآبادکاری کا عہد کیا لیکن بقول اقوام متحدہ ریاست راکھئین میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی روکنے کا کوئی حل پیش نہیں کیا۔
ان علاقوں میںمیانمار کی فوج پر روہنگیا مسلمانوں کو اُن کے جھلستے ہوئے گھروں سے نکال رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے آنگ سان سوچی کے موقف کی سخت مذمت کی ہے لیکن 72 سالہ خاتون رہنما کے حامیوں اور چند مبصرین نے کہا ہے کہ ان کے پاس فوج پر اتھاریٹی کا فقدان ہے جو (فوج) 50 سال تک اس ملک پر حکمرانی کی ہے اور حال ہی میں ان (سوچی) کی سوئلین حکومت کو محدود اختیارات دی ہے۔ سوچی نے 30 منٹ کے خطاب کے دوران کہاکہ مائنمار ان تمام پناہ گزینوں کو دوبارہ بسانے کے لئے تیار ہے۔ 1990 ء کے دوران بنگلہ دیش کے ساتھ متفقہ عمل کے مطابق ان پناہ گزینوں کی توثیق و تنقیح کی جائے گی اور ’’اس ملک کے پناہ گزین کی توثیق پانے والے افراد کسی مسئلہ کے بغیر قبول کئے جائیں گے‘‘۔ ایک ماہ سے بھی کم مدت میں راکھئین کے 10 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کی نصف آبادی بنگلہ دیش فرار ہوچکی ہے جہاں وہ پناہ گزینوں سے کھچا کھچ بھرے کیمپوں میں مقیم ہے لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ پناہ گزینوں کو قبول کرنے سوچی کی جانب سے پہلی مرتبہ کی گئی نئی پیشکش کے تحت کتنے روہنگیا مسلمان دوبارہ مائنمار واپس ہوں گے۔
اکثر پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی کاغذات نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش میں مقیم بعض پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ’’حکومت اگر ہمارے بحران کی یکسوئی کے لئے دیانتداری کے ساتھ وعدہ کرتی ہے تو ہم اس وقت واپس کے لئے تیار ہیں کیونکہ کوئی بھی اس قسم کے حالات میں پناہ گزین کی حیثیت سے رہنا نہیں چاہتا‘‘۔ آنگ سان سوچی نے دنیا سے کہاکہ ’’مسلمانوں کی بڑی اکثریت‘‘ ٹرائی کے خطہ میں بدستور مقیم ہے اور ان کے 50 فیصد سے زائد دیہاتیں ہنوز محفوظ ہیں۔ واضح رہے کہ 25 اگسٹ کو میانمار کے سکیورٹی فورسیس پر روہنگیا تخریب کاروں کے مبینہ حملے اور اس کے بعد مغربی ریاست راکھئین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف منظم فوجی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت، درجنوں دیہاتوں میں آتشزنی اور اجتماعی تخلیہ کے سبب نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی عالمی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔
روہنگیائی مسلمانوں کی اکثریتی ریاست راکھئین میں اگرچہ گزشتہ کئی دن سے مسلسل آگ کے شعلے بدستور اُٹھ رہے ہیں لیکن آنگ سان سوچی نے کہاکہ اس علاقہ میں کوئی مسلح تصادم نہیں ہوا ہے اور 5 ستمبر سے تخلیہ کی کارروائیاں بھی روک دی گئی ہیں۔ سوچی نے مزید کہاکہ ’’مسلمانوں کی کثیر تعداد کے سرحد پار کرتے ہوئے بنگلہ دیش فرار ہونے کی اطلاعات پر بلاشبہ ہمیں بھی تشویش ہے۔ ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ تخلیہ کیوں ہورہا ہے اور وہ کیوں فرار ہورہے ہیں ہم اُن تمام سے بات کرنا چاہتے ہیں جو فرار ہوگئے ہیں اور وہ جو ہنوز یہاں مقیم ہیں‘‘۔ انھوں نے کہاکہ یہ سمجھنا بھی معاون و مددگار ثابت ہوگا کہ دوسری جگہ کوئی تصادم پیدا نہیں ہوا۔ اُنھوں نے بیرونی سفارت کاروں کو ان مواضعات کے دورہ کے لئے مدعو کیا تھا جو ان واقعات سے متاثر نہیں ہوئے ہیں تاکہ حکومت کے ساتھ وہ (بیرونی سفارت کار) بھی یہ سمجھ سکیں کہ ان مخصوص علاقوں میں عوام ایک دوسرے کا قتل کیوں نہیں کررہے ہیں۔